انسانی زندگی ایک مسلسل سفر کا نام ہے؛ ایسا سفر جس میں ہر شخص اپنی صلاحیت، قسمت، محنت اور حالات کے مطابق آگے بڑھتا ہے۔ کوئی جلد اپنی منزل پا لیتا ہے، کوئی دیر سے کامیابی کے دروازے تک پہنچتا ہے، کوئی بار بار گر کر سنبھلتا ہے اور کوئی خاموشی سے مسلسل جدوجہد کرتے ہوئے ایک دن کامیابی کی بلند ترین چوٹی کو چھو لیتا ہے۔
مگر زندگی کا سب سے بڑا المیہ شاید یہ ہے کہ ہم اکثر اپنے سفر، اپنی رفتار اور اپنی منزل پر نظر رکھنے کے بجائے دوسروں کے راستوں کو دیکھتے رہتے ہیں۔
کسی کی کامیابی ہمیں اپنی ناکامی محسوس ہونے لگتی ہے، کسی کی شہرت ہماری بے چینی بن جاتی ہے اور کسی کی ترقی ہمارے دل میں حسد کی آگ بھڑکا دیتی ہے۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ دوسروں کی روشنی ہماری روشنی کو کم نہیں کرتی۔ کسی ایک چراغ کے جلنے سے دوسرے چراغ کے روشن ہونے کے امکانات ختم نہیں ہوتے۔ آسمان پر ہزاروں ستارے ایک ساتھ چمکتے ہیں، مگر کوئی ستارہ دوسرے کی چمک سے خوف زدہ نہیں ہوتا۔
زندگی کا حسن ہی اس تنوع میں ہے کہ ہر انسان کا سفر مختلف ہے، ہر شخص کی آزمائش الگ ہے اور ہر کامیابی کے پیچھے ایک الگ داستان موجود ہے۔ اس لیے دوسروں کی منزل کو دیکھ کر اپنے سفر سے مایوس ہونا دانش مندی نہیں، بلکہ اپنی صلاحیتوں کو پہچان کر مسلسل آگے بڑھنا ہی اصل کامیابی ہے۔
ہمیں یہ حقیقت سمجھنا ہوگی کہ دنیا میں کامیابی محدود نہیں۔ اگر کسی کو عزت ملی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہماری عزت کم ہوگئی۔ اگر کوئی آگے بڑھ گیا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہمارے راستے بند ہوگئے۔ اگر کسی کی آواز سنی جا رہی ہے تو ہمیں اپنی آواز خاموش کرنے کی ضرورت نہیں۔
مسئلہ صرف اتنا ہے کہ ہم دوسروں کی روشنی سے جلنے کے بجائے اپنی شمع روشن کرنا بھول گئے ہیں۔
حسد انسان کی شخصیت کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ حسد کرنے والا شخص دوسروں کے عیب تلاش کرتے کرتے اپنی خامیوں کو بھول جاتا ہے۔ وہ دوسروں کو گرتا ہوا دیکھنے کی خواہش میں خود آگے بڑھنے کی کوشش چھوڑ دیتا ہے۔ اس کی توانائی اپنی زندگی سنوارنے کے بجائے دوسروں کی زندگیوں پر تبصرہ کرنے میں صرف ہونے لگتی ہے۔
پھر ایک وقت آتا ہے کہ جس شخص سے وہ حسد کرتا ہے، وہ اپنی راہ پر آگے بڑھتا رہتا ہے، جبکہ حسد کرنے والا اپنی ہی منفی سوچ کے دائرے میں قید ہو جاتا ہے۔
یہی حسد انسان کو دوسروں کی کامیابی کے پیچھے سازش تلاش کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ وہ یہ تسلیم کرنے سے گریز کرتا ہے کہ شاید کسی کی کامیابی کے پیچھے محنت، قابلیت، صبر اور مسلسل جدوجہد موجود ہو۔ آسان راستہ یہ لگتا ہے کہ کامیاب انسان کو کم تر ثابت کر دیا جائے، اس کی کامیابی کو اتفاق قرار دے دیا جائے یا اس کے کردار پر سوال اٹھا دیا جائے۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ کسی کی کامیابی کو چھوٹا ثابت کرنے سے ہم بڑے نہیں ہو جاتے۔
آج کے سوشل میڈیا کے دور میں یہ رویہ مزید بڑھ گیا ہے۔ کسی کی کامیابی، شہرت، خوبصورتی، ترقی یا مقبولیت کو دیکھ کر فورا سوال اٹھایا جاتا ہے: اس میں ایسی کیا بات ہے؟
ہم کامیابی کے پیچھے موجود برسوں کی محنت، ناکامیاں، قربانیاں، محرومیاں اور صبر دیکھنے کے بجائے صرف نتیجہ دیکھتے ہیں اور پھر اپنے دل میں حسد پال لیتے ہیں۔
کاش ہم یہ سوچیں کہ جس مقام پر آج کوئی شخص کھڑا ہے، شاید وہاں پہنچنے کے لیے اس نے کئی راتیں بے خوابی میں گزاری ہوں گی۔ شاید اس نے وہ ناکامیاں برداشت کی ہوں جن کا ہمیں اندازہ بھی نہیں۔ شاید اس کی مسکراہٹ کے پیچھے ایسے دکھ ہوں جن سے دنیا واقف نہیں۔
دنیا ہمیں اکثر کامیابی دکھاتی ہے، مگر کامیابی کی قیمت نہیں دکھاتی۔
اصل دانش مندی یہ ہے کہ ہم دوسروں کی کامیابی کو اپنی شکست نہ سمجھیں بلکہ اسے اپنی تحریک بنائیں۔ اگر کوئی ہم سے آگے ہے تو اس سے جلنے کے بجائے یہ جاننے کی کوشش کریں کہ وہ آگے کیسے بڑھا؟ اس کی محنت، مستقل مزاجی اور جدوجہد سے کیا سیکھا جا سکتا ہے؟
کیونکہ کامیاب انسان سے حسد کرنے کے بجائے اس سے سبق لینا زیادہ دانش مندی ہے۔
محنت انسان کو راستہ دکھاتی ہے، جبکہ حسد انسان کو راستے سے بھٹکا دیتا ہے۔
زندگی میں ہر انسان کو اپنی شمع خود روشن کرنی ہوتی ہے۔ دوسروں کے چراغ بجھا دینے سے ہمارا راستہ روشن نہیں ہو جاتا۔ کسی کی شہرت کم کرنے سے ہماری پہچان نہیں بن جاتی۔ کسی کی عزت گھٹانے سے ہماری عزت میں اضافہ نہیں ہوتا اور کسی کی کامیابی پر کیچڑ اچھالنے سے ہماری ناکامی کامیابی میں تبدیل نہیں ہو جاتی۔
یاد رکھیے!
دوسروں کو گرانے کی کوشش کرنے والے اکثر خود اپنی جگہ کھڑے رہ جاتے ہیں، جبکہ اپنی ذات کو بہتر بنانے والے خاموشی سے آگے نکل جاتے ہیں۔
محنت کا راستہ مشکل ضرور ہوتا ہے، مگر اس میں سکون ہے، وقار ہے اور ترقی کا امکان ہے۔ حسد کا راستہ بظاہر آسان محسوس ہوتا ہے، مگر اس کے انجام میں بے چینی، نفرت اور محرومی کے سوا کچھ نہیں۔
محنت کرنے والا اپنی تقدیر بدلنے کی کوشش کرتا ہے، جبکہ حسد کرنے والا دوسروں کی تقدیر سے شکایت کرتا رہتا ہے۔
یہی فرق ایک کامیاب اور ناکام سوچ کے درمیان ہوتا ہے۔
ہمیں اپنے بچوں، نوجوانوں اور پورے معاشرے کو بھی یہ سبق دینا ہوگا کہ مقابلہ ضرور کریں، مگر نفرت کے ساتھ نہیں؛ آگے بڑھیں، مگر کسی کو پیچھے دھکیل کر نہیں؛ کامیاب ہوں، مگر کسی کی ناکامی پر خوش ہو کر نہیں۔
حقیقی کامیابی وہی ہے جس میں انسان اپنی منزل بھی حاصل کرے اور اپنے کردار کی روشنی بھی قائم رکھے۔
ہمارا معاشرہ اس وقت زیادہ خوبصورت، مضبوط اور ترقی یافتہ ہو سکتا ہے جب ہم ایک دوسرے کی کامیابی کو خطرہ سمجھنے کے بجائے خوشی سمجھیں۔ کسی کی کامیابی پر مبارک باد دینا ہمارے مقام کو کم نہیں کرتا بلکہ ہمارے ظرف کو بلند کرتا ہے۔
بڑا انسان وہ نہیں جو دوسروں کو چھوٹا ثابت کرے، بلکہ بڑا وہ ہے جو دوسروں کی خوبیوں کو تسلیم کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔
آج ہمیں اپنے اندر جھانکنے کی ضرورت ہے۔
کیا ہم دوسروں کی کامیابی دیکھ کر خوش ہو سکتے ہیں؟
کیا ہم کسی کے آگے بڑھنے کو اپنی ناکامی سمجھے بغیر اسے مبارک باد دے سکتے ہیں؟
کیا ہم دوسروں کے چراغوں کو دیکھنے کے بجائے اپنی شمع جلانے کی کوشش کر رہے ہیں؟
اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ:
ہم اپنی زندگی بہتر بنانے میں زیادہ وقت صرف کرتے ہیں یا دوسروں کی زندگیوں پر نظر رکھنے میں؟
اگر ان سوالوں کا جواب ہمارے حق میں نہیں تو ہمیں اپنے رویے بدلنے ہوں گے۔ کیونکہ زندگی دوسروں کے حصے کی روشنی گننے کا نام نہیں بلکہ اپنے حصے کی روشنی پیدا کرنے کا نام ہے۔
اس موضوع سے متعلق فیصل عشرت صاحب کے خیالات آپ کی بصارتوں کی نذر کرتے ہیں
تصویر
محمد فیصل عشرت*
(ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ آف سندھ، کراچی)
جون ایلیا صاحب نے کیا خوب کہا ہے کہ:
کیا تکلف کریں یہ کہنے میں۔۔۔
جو بھی خوش ہے ہم اس سے جلتے ہیں۔۔
اس شعر کی روشنی میں ذرا اپنے اردگرد نظر دوڑائیں؛ ہم میں سے کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو دن رات دوسروں کی ترقی کو دیکھ کر کڑھتے رہتے ہیں۔ وہ یہ تو چاہتے ہیں کہ انہیں بھی سب کچھ مل جائے، لیکن اس کے لیے جو پسینہ بہانا پڑتا ہے، اس سے جی چراتے ہیں۔
یہی وہ موڑ ہے جہاں زندگی دو حصوں میں بٹ جاتی ہے: ایک راستہ ہارڈ ورک (Hard Work) کا ہے، اور دوسرا حسد (Jealousy) کا۔
ذرا سوچیے، حسد کرنے سے ہمیں کیا ملتا ہے؟ کچھ بھی نہیں۔ سوائے ذہنی سکون کے خاتمے، دل کی جلن اور بے خواب راتوں کے۔ جب ہم کسی اور کی کامیابی یا نعمت کو دیکھ کر دل میں کڑہتے ہیں، تو دراصل ہم اس کا کچھ نہیں بگاڑ رہے ہوتے، بلکہ اپنے ہی مائنڈ سیٹ (Mindset) اور سکونِ قلب کو خراب کر رہے ہوتے ہیں۔ حسد ایک ایسا روگ ہے جس کا شکار انسان خود اپنے ہی اندر گھٹ گھٹ کر مرتا ہے۔
اس کے برعکس، “محنت” ایک ایسا جادو ہے جو ناممکن کو بھی ممکن بنا دیتا ہے۔ قدرت کا اصول بڑا واضح اور اٹل ہے: “انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔” جب آپ حسد چھوڑ کر اپنی توجہ اپنے کام، اپنے ہنر اور اپنی محنت پر مرکوز کرتے ہیں، تو آپ کا ہر قدم آپ کو آگے لے جاتا ہے۔ دوسروں سے جلنے کے بجائے ان کی کامیابی کو اپنے لیے ایک انسپائریشن (Inspiration) بنائیں اور خود کو بہتر سے بہتر کرنے کی تگ و دو میں لگ جائیں۔
زندگی بہت مختصر ہے اور وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔ اسے دوسروں کی ٹوہ لینے اور ان سے جلنے میں ضائع مت کیجیے۔ اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ رکھیے، اپنے بازوں کی طاقت پر یقین کیجیے اور ڈسپلن (Discipline) کے ساتھ جی توڑ محنت کریں۔۔
یاد رکھیے، رزق اور عزت کے فیصلے اوپر والے کے ہاتھ میں ہیں، اور وہ کسی کی محنت کا ایک ذرہ بھی رائیگاں نہیں جانے دیتا۔
خلاصہ کلام تو آج سے یہ تہیہ کر لیجیے کہ ہم نیگیٹیویٹی (Negativity) کو چھوڑیں گے اور اپنی پرائمری فوکس صرف اپنی محنت پر رکھیں گے
یہ تھے فیصل عشرت صاحب
آئیے!
حسد کی آگ میں جلنے کے بجائے محنت کا چراغ جلائیں۔
دوسروں کی کامیابیوں سے پریشان ہونے کے بجائے اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں۔
دوسروں کے راستے میں کانٹے بچھانے کے بجائے اپنے راستے کی مشکلات دور کریں۔
دوسروں کی خامیاں تلاش کرنے کے بجائے اپنی شخصیت کو بہتر بنائیں۔
اور دوسروں کے چراغ بجھانے کی خواہش رکھنے کے بجائے اتنی روشنی پیدا کریں کہ آپ کی محنت خود آپ کی پہچان بن جائے۔
کیونکہ دوسروں کی روشنی سے جلنے والے اکثر اندھیروں میں رہ جاتے ہیں، اور اپنی شمع روشن کرنے والے ایک دن خود دوسروں کے لیے راستہ بن جاتے ہیں۔
لہذا زندگی کا اصول بہت سادہ ہے:
محنت کر، حسد نہ کر۔
دوسروں کی روشنی سے نہ جلیں، اپنی شمع روشن کریں؛ کیونکہ دنیا میں آپ کی پہچان دوسروں کے چراغ بجھانے سے نہیں، بلکہ اپنے کردار، اپنی قابلیت اور اپنی محنت سے روشنی پھیلانے سے بنے گی۔
اور یاد رکھیے،
جو شخص اپنی ذات کو روشن کرنے کی کوشش کرتا ہے، اسے دوسروں کی روشنی کبھی چبھتی نہیں؛ بلکہ وہ جانتا ہے کہ ایک روشن چراغ دوسرے چراغ کے لیے خطرہ نہیں، روشنی کا پیغام ہوتا ہے۔
پاکستان کی معیشت کی تاریخ میں قرض کوئی نیا لفظ نہیں۔ یہ ہماری مالیاتی داستان کا ایسا کردار ہے جو کئی دہائیوں سے مختلف ناموں، مختلف اداروں اور مختلف شرائط کے ساتھ ہمارے ساتھ چلتا آیا ہے۔ کبھی بیرونی امداد کے نام پر، کبھی ترقیاتی قرض کے عنوان سے، کبھی بجٹ سپورٹ اور کبھی کسی...
آج کے دور میں خبر تک پہنچنے کے لیے اخبار کے اگلے دن کا انتظار نہیں کرنا پڑتا۔ موبائل فون کھولیں اور دنیا بھر کی خبریں چند سیکنڈ میں سامنے آجاتی ہیں۔ یہ سہولت بلاشبہ ایک انقلاب ہے، لیکن اس انقلاب کا ایک خطرناک پہلو بھی ہے۔ اب جھوٹی خبر بھی سچ کی رفتار سے...
یہ اہم سوال ہے ؟نئے صوبے بنانا اور ملک کے معاشی مسائل حل ہونا دو الگ چیزیں ہیں نئے صوبے بعض انتظامی مسائل کم کر سکتے ہیں، مگر صرف نقشے پر نئی حد بندی کر دینے سے مہنگائی، قرض، کمزور برآمدات، بے روزگاری یا کم ٹیکس وصولی ختم نہیں ہوگی۔حالیہ بحث میں بھی یہی بنیادی...
نیپال میں نصف کلومیٹر سے بڑا برفانی تودہ ہزاروں فٹ نیچے گرا، برف، چٹان، مٹی اور پانی کے ریلے نے بستیاں، سڑکیں اور پل بہا دیے؛ ماہرین نے گلیشیائی جھیل کے اچانک پھٹنے کو خطرے کی بڑی وجہ قرار دے دیا ہے۔ ہمالیہ کی بلند و بالا چوٹیوں کو دیکھ کر شاید ہی کوئی تصور...