
فرحانہ اشرف فرحانہ
فرحانہ اشرف فرحانہ کے شائع شدہ کالمز
برداشت کا فقدان: اختلافِ رائے سے دشمنی تک…تحریر: فرحانہ اشرف فرحانہ
برداشت کی حدوں سے مرا دل گزر گیا آندھی اٹھی تو ریت کا ٹیلہ بکھر گیا ساجد اثر کسی بھی مہذب معاشرے کی اصل پہچان اس کی بلند و بالا عمارتیں، جدید شاہراہیں یا معاشی ترقی نہیں ہوتیں بلکہ اس کے شہریوں کا اخلاق، برداشت اور اختلافِ رائے کو قبول کرنے کا ظرف ہوتا ہے۔...
سوشل میڈیا کا مصنوعی سوگ تحریر: فرحانہ اشرف فرحانہ
دنیا سے یااپنے ملک و شہر سے چلے جانے کے بعد انسان معتبر اور اہم ہوجاتا ہے انسانی معاشرے کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ رہی ہے کہ وہ اپنے لوگوں کی قدر کرنا جانتا تھا۔ کسی کی خوشی میں شریک ہونا، کسی کے غم میں سہارا بننا، کسی کی کامیابی پر داد دینا اور...
سفر عزم کی روداد…تحریر: فرحانہ اشرف فرحانہ
نیشنل میڈیافاونڈیشن کے وفد کا سندھ اور پنجاب کا دورہ دورانِ سفر انسان بہت کچھ سیکھتا ہے۔ سفر انسان کا بہترین استاد ہے۔ یہ نہ صرف نئی جگہوں، ثقافتوں اور لوگوں سے روشناس کراتا ہے بلکہ انسان کی سوچ، برداشت اور تجربات میں بھی اضافہ کرتا ہے۔ ہر سفر زندگی کا ایک نیا سبق دے...
منتہا سے کلثوم تک — آخر کب تک؟تحریر: فرحانہ اشرف فرحانہ
معصوم بیٹیوں کی چیخیں اور بے حس معاشرہ تعویز گلے میں تھا مِرے ردِّ بلا کا آدم سے بچاؤ کا نہ تھا وِرد کوئی یاد! ناصرہ زبیری سرگودھا کی ننھی منتہا ہو یا کراچی کی معصوم کلثوم، نام بدل جاتے ہیں، شہر بدل جاتے ہیں، مگر ظلم کی کہانی وہی رہتی ہے۔ ہر چند روز...
بیٹوں کو بیٹیوں پر فوقیت: پاکستانی معاشرے میں ایک سماجی رویہ تحریر: فرحانہ اشرف فرحانہ
ہماری بیٹیوں کا ظرف دیکھ لے دنیا ہم اُن کے سامنے بیٹے دعا میں مانگتے ہیں احمد سلیم پاکستانی معاشرہ روایات، ثقافت اور خاندانی اقدار کا حامل معاشرہ ہے۔ اگرچہ وقت کے ساتھ بہت سی مثبت تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، لیکن آج بھی بعض سماجی رویے ایسے ہیں جو خواتین اور مردوں کے درمیان مساوات...
تصویر کا دوسرا رخ: فرحا نہ اشرف فرحانہ
اے کہ دل تیرا ہے فکر بادہء گلفام میں زہر بھی ہوتا ہے اکثر خوبصورت جام میں ظفراحمد صدیقی ہماری زندگی بھی تصویر ہی کی مانند ہے جو دکھائی دیتا ہے وہ مکمل نہیں ہوتا۔ جیسے تصویر میں ایڈیٹنگ ہوتی ہے فلٹر ہوتا ہے ہماری مصنوعی مسکراہٹ شامل ہوتی ہے جسے دیکھنے والا حقیقت سمجھتا...
گلی کوچے..عورت سے اختلاف یا اس کی تذلیل.. فر حا نہ اشرف فرحانہ
اختلاف ایک فطری، فکری، علمی و معاشرتی عمل ہے۔ لیکن کسی بھی عمل میں تہذیب و وقار کا خیال نہ رکھا جائے تو بات دلیل سے نکل کر تذلیل میں تبدیل ہوجاتی ہے-اب وہ اختلاف چاہے مرد ذات سے ہو یا عورت سے،ترقی پسند معاشروں میں شخصی آزادی اور ذاتی پسند کا احترام کیا جاتا...