ادب محض الفاظ کو خوب صورت ترتیب دینے کا نام نہیں، ادب دراصل تہذیب، شعور، برداشت، احترام اور انسانی وقار کا دوسرا نام ہے۔ ادیب سے صرف یہ توقع نہیں کی جاتی کہ وہ اچھا لکھے یا اچھا شعر کہے، بلکہ یہ بھی توقع کی جاتی ہے کہ اس کے رویے میں بھی وہی شائستگی، ظرف اور انسان دوستی دکھائی دے جس کا درس اس کے قلم سے نکلتا ہے۔
مگر افسوس کہ ہمارے ادبی ماحول میں بعض اوقات ادب کے نام پر بے ادبی، اختلاف کے نام پر دشمنی، تنقید کے پردے میں ذاتی عناد اور مسابقت کے نام پر حسد کا ایسا مظاہرہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ سوال پیدا ہوتا ہے: ہم ادب کی خدمت کر رہے ہیں یا اپنی انا کی؟
اختلافِ رائے ہر زندہ معاشرے کی علامت ہے۔ کسی شاعر کی تخلیق پسند نہ آنا، کسی ادیب کی فکر سے اختلاف کرنا یا کسی ادبی تنظیم کے فیصلے سے متفق نہ ہونا کوئی عیب نہیں۔ اختلاف تو ادب کو زندہ رکھتا ہے۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں اختلاف، کینہ، حسد، ذاتی دشمنی اور کردار کشی میں تبدیل ہوجائے۔
اور جب ایسا ہو تو معاملہ محض دو افراد کے درمیان اختلاف نہیں رہتا، بلکہ پوری ادبی فضا متاثر ہونے لگتی ہے۔
معتبر ہوتا وہ تمغہ جو تجھے مل جاتا
تیری تشریف پہ اک پھول نیا کھل جاتا
رحمان فارس
ایک عجیب رویہ عام ہوتا جارہا ہے۔ اگر کوئی ادبی تنظیم کسی شاعر یا ادیب کو کسی اعزاز یا ایوارڈ سے نواز دے تو بعض مخالفین فورا تنظیم کے منتظمین، روحِ رواں یا ذمہ داران کی اہلیت کو نشانہ بنانا شروع کردیتے ہیں۔
کہا جاتا ہے:
“ایوارڈ دینے والے خود کون سے بڑے شاعر ہیں؟ ان کے دیے ہوئے ایوارڈ کی کیا حیثیت ہے؟”
یا پھر طنزیہ انداز اختیار کیا جاتا ہے:
“بڑے بڑے مستند شعرا بھی یہ ایوارڈ لے رہے ہیں، تصویریں بنوا رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر شیئر کر رہے ہیں، تو پھر اس ایوارڈ کی حیثیت کیا
رہ گئی؟”
یہاں ذرا ٹھہر کر سوچنے کی ضرورت ہے۔
اگر واقعی آپ کے نزدیک وہ ایوارڈ بے حیثیت ہے، تنظیم غیر معتبر ہے اور اس کے منتظمین ادبی معیار سے عاری ہیں تو پھر انہی معتبر شعرا اور ادیبوں کی شرکت پر بھی سوال اٹھائیے جنہوں نے دعوت قبول کی، تقریب میں شریک ہوئے، اعزاز وصول کیا، منتظمین کے ساتھ تصاویر بنوائیں اور پھر انہی تصاویر کو خوشی کے ساتھ اپنے سوشل میڈیا پر شیئر بھی کیا۔
پھر سوال ایوارڈ کی حیثیت کا نہیں رہتا۔
سوال یہ بن جاتا ہے کہ آپ کو تکلیف آخر کس بات سے ہے؟
کسی شاعر کی پذیرائی سے؟
کسی تنظیم کی کامیاب تقریب سے؟
کسی ادیب کو ملنے والے اعزاز سے؟
یا اس حقیقت سے کہ جسے آپ کمتر ثابت کرنا چاہتے تھے، اسے اہلِ قلم نے عزت اور پذیرائی دے دی؟
ایسے موقع پر دوسروں کے ظرف کا امتحان لینے سے پہلے اپنا ظرف دیکھ لینا چاہیے۔
اور ذرا یہ بھی سوچیے کہ اگر آپ کو اسی تقریب میں مدعو کیا جاتا، اعزاز دیا جاتا، اسٹیج پر جگہ ملتی اور آپ کے ہاتھ میں وہی ایوارڈ ہوتا تو شاید آپ بھی تصویر بنواتے، خوب صورت کیپشن لکھتے اور سب سے پہلے اسے اپنے سوشل میڈیا پر شیئر کرتے۔
تو پھر یہ “بی جمالو” والی شکایت کیوں؟
مخالفت کرنے والے تو صدارتی تمغہ حسن کار کردگی کے بھی خلاف ہیں
ان کے مطابق اہل کو حق نہیں دیا گیا
اور یہ بھی ہمارے ادبی رویوں کا ایک عجیب تضاد ہے کہ بعض لوگ اپنی تقریبات میں کسی کو مدعو کرتے ہیں، مہمان عزت کے ساتھ تقریب میں شریک ہوتا ہے، پروگرام کی رونق بڑھاتا ہے، تصاویر بنواتا ہے اور بعد ازاں تقریب کی تصاویر اپنے سوشل میڈیا پر شیئر کرتا ہے۔ لیکن پروگرام ختم ہوتے ہی جیسے اس مہمان کی اہمیت بھی ختم ہوگئی۔
نہ اس پوسٹ پر ایک لفظِ تشکر، نہ ایک تبصرہ، نہ کوئی اعتراف!
گویا مقصد پورا ہوا، اب تعلق اور احترام کی ضرورت باقی نہیں رہی۔
یہ رویہ بھی دراصل اسی مطلبی ادبی کلچر کا حصہ ہے جس میں تعلق شخصیت سے نہیں، ضرورت سے قائم کیا جاتا ہے
نظریں جھکا کر اپنے گریباں میں جھانک لے
جس کو دکھائی دیتا ہے ہر دوسرا غلط
علی رضا
ادب میں ایک اور خطرناک رجحان بھی پنپ رہا ہے: ہر شخص اپنے مخالف کو اپنی پسند کے مطابق کوئی نہ کوئی لقب دے دیتا ہے۔ کسی کو متشاعر کہہ دیا جاتا ہے، کسی کی شاعری کو مذاق بنا دیا جاتا ہے، کسی کی ادبی حیثیت کو مشکوک قرار دے دیا جاتا ہے۔
سر بزم بہ آواز بلند خاص لہجے اور طنز کے ساتھ ایسا جملہ کہنا جسکا مقصد اعلانیہ لوگوں کو یہ بتانا مذاق بنانا کہ یہ شاعر نہیں اپنا کلام مشاعرے میں نہیں پڑھتا
محض دشمنی یا شک کی بنیاد پر ایسا کہنا بے ادبی ہی نہیں سراسر زیادتی ہے
آخر سوال یہ ہے:
متشاعر ہونے کا فیصلہ کون کرے گا؟
کیا ہر وہ شخص جو آپ کا مخالف ہے، متشاعر ہے؟
اور کیا ہر وہ شخص جو آپ کے حلقے میں شامل ہے، لازما بڑا شاعر ہے؟
اگر معیار یہی ہے تو پھر ہم ادب نہیں، گروہی وفاداریوں کی درجہ بندی کررہے ہیں۔
تنقید ضرور کیجیے، مگر دلیل کے ساتھ۔
شعر کمزور ہے تو شعر پر بات کریں۔
فنی خامی ہے تو فنی خامی کی نشاندہی کریں۔
اسلوب میں مسئلہ ہے تو اسلوب پر گفتگو کریں۔
مگر کسی انسان کی تضحیک، تمسخر، کردار کشی یا ذاتی تحقیر کو تنقید کا نام دینا خود تنقید کی توہین ہے۔
پھر ایک اور رویہ ادبی محفلوں کو عجیب کشمکش میں مبتلا کر رہا ہے:
“فلاں آئے گا تو ہم نہیں آئیں گے۔”
“فلاں کی صدارت میں ہم نہیں پڑھیں گے۔”
“فلاں اسٹیج پر ہوگا تو ہماری شرکت ممکن نہیں۔”
اگر کسی کے خلاف کوئی حقیقی اخلاقی، قانونی یا اصولی اعتراض ہے تو اسے دلیل کے ساتھ سامنے لایا جاسکتا ہے، لیکن محض ذاتی رنجش کی بنیاد پر ہر ادبی تقریب کو بائیکاٹ کی دھمکی دینا ادب نہیں، انا کا اظہار ہے۔
اور یہاں منتظمین بھی اپنی ذمہ داری سے بری نہیں ہوسکتے۔
کچھ لوگ جان بوجھ کر ایسے افراد کو ایک ہی ادبی تقریب میں اکٹھا کردیتے ہیں جو ایک دوسرے کے شدید مخالف ہوتے ہیں۔ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ دونوں کے درمیان کشیدگی موجود ہے، پھر بھی انہیں ایک ہی اسٹیج، ایک ہی نشست یا ایک ہی ماحول میں لاکر تنازع کے امکانات پیدا کیے جاتے ہیں۔
اگر ایسی صورت میں ادبی ماحول خراب ہوجائے، تلخی پیدا ہو یا تقریب بدمزگی کا شکار ہوجائے تو ذمہ داری صرف جھگڑنے والوں پر نہیں، مدعو کرنے والے پر بھی عائد ہوتی ہے۔
منتظم کا کام آگ میں تیل ڈالنا نہیں، فاصلے کم کرنا ہے۔
ادبی تقریب کسی کی ذاتی لڑائی کا اکھاڑا نہیں ہوتی۔
اسی طرح ادبی تقریبات کی رپورٹنگ میں بھی ذاتی پسند و ناپسند کی آمیزش ایک خطرناک رجحان بنتی جارہی ہے۔ کسی تقریب کا احوال لکھتے ہوئے اگر مخالف شخصیت کا ذکر ہو تو الفاظ کے انتخاب سے ذاتی غصہ، طنز اور تحقیر صاف جھلکنے لگتی ہے۔
حالانکہ قلم کار کو یاد رکھنا چاہیے:
قلم امانت ہے۔
رپورٹ میں اختلاف ہوسکتا ہے، تجزیہ ہوسکتا ہے، تنقیدی رائے ہوسکتی ہے، مگر بدتہذیبی نہیں ہونی چاہیے۔
کسی ادبی شخصیت کی عمر، جسم، رنگ، خدوخال یا ظاہری حلیے کو طنز کا نشانہ بنانا تو تنقید کے نام پر انتہائی پست رویہ ہے۔
سوشل میڈیا نے اس بیماری کو مزید آسان کردیا ہے۔
دوسروں کی خامیاں سب ڈھونڈتے رہتے ہیں کیوں
کیا کمی ہے خود کے اندر ڈھونڈتا کوئی نہیں
وشمہ
گروپ فوٹو میں کوئی ناپسندیدہ شخص نظر آگیا تو تصویر شیئر کرنا بھی ضروری سمجھا جاتا ہے، مگر اس کے چہرے پر ایموجی، اسٹیکر یا کوئی مضحکہ خیز
شکل بنا کر اسے چھپا دیا جاتا ہے۔ پھر اس کے جسم، رنگ، خدوخال یا ظاہری شکل و صورت کا مذاق اڑاتے ہوئے جملے لکھے جاتے ہیں۔
یہ تنقید نہیں۔
یہ دلیل کے دیوالیہ پن کا اظہار ہے۔
کیونکہ جب کسی کی تخلیق کا جواب دینے کے لیے دلیل ختم ہوجائے تو شخصیت پر حملہ آسان راستہ بن جاتا ہے۔
اور جب کسی کی کامیابی برداشت نہ ہو تو اس کی قابلیت پر بات کرنے کے بجائے اس کی ذات کو مذاق بنا دینا شاید کچھ لوگوں کو اپنی انا کا تسکین بخش راستہ محسوس ہوتا ہے۔
مگر یاد رکھیے:
دوسرے کے چہرے پر ایموجی لگانے سے اپنا چہرہ خوب صورت نہیں ہوجاتا۔
دوسرے کے خدوخال کا مذاق اڑانے سے اپنا ظرف بلند نہیں ہوجاتا۔
دوسرے کو کمتر ثابت کرنے سے اپنی ادبی حیثیت بلند نہیں ہوتی۔
بلکہ انسان دوسروں پر انگلی اٹھاتے اٹھاتے یہ بھول جاتا ہے کہ چار انگلیاں اسی کی طرف بھی اٹھ رہی ہوتی ہیں۔
نہ عمر کا لحاظ، نہ رتبے کا احترام، نہ ادبی خدمات کا پاس!
یہ رویہ صرف کسی ایک فرد کی اخلاقی کمزوری نہیں، بلکہ پورے ادبی ماحول کے لیے لمح فکریہ ہے۔
ایک اور دلچسپ مگر افسوس ناک رویہ بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ اگر کسی تنظیم نے کسی شخص کو مدعو نہیں کیا، صدارت نہیں دی، مہمانِ خصوصی کی مسند پر نہیں بٹھایا یا مہمانِ اعزازی نہیں بنایا تو بعض اوقات وہ پوری تقریب ہی ناقص قرار دینے لگتا ہے۔
یہاں تک کہ مثال کے طور پر اگر پروگرام میں قرآن خوانی جیسی بابرکت سرگرمی بھی شامل ہو تو اس پر بھی اعتراضات کی بوچھاڑ شروع ہوجاتی ہے۔
لیکن ذرا وہی مسند، وہی مائیک، وہی پروٹوکول اور وہی مرکزی مقام عطا کردیجیے، پھر منظر بدل جاتا ہے۔
جس پروگرام میں خامیاں تھیں، وہ اچانک شاندار ہوجاتا ہے۔
جس تنظیم پر اعتراضات تھے، وہ معتبر ہوجاتی ہے۔
جس منتظم میں خامیاں نظر آتی تھیں، اس کی تعریفیں ہونے لگتی ہیں۔
گویا:
مسند بدلتے ہی اصول بھی بدل گئے۔
یہ رویہ بتاتا ہے کہ مسئلہ اصول کا نہیں، اپنی جگہ، اپنی اہمیت اور اپنی انا کا ہے۔
ادب کو اس بیماری سے نجات دلانے کے لیے ہمیں دوسروں کو بدلنے سے پہلے اپنے اندر جھانکنا ہوگا۔
ہر اختلاف کو دشمنی نہ بنائیں۔
ہر کامیاب شخص کو حسد کی نگاہ سے نہ دیکھیں۔
ہر ایوارڈ کو محض اس لیے بے حیثیت نہ قرار دیں کہ وہ آپ کو نہیں ملا۔
ہر تنظیم کو صرف اس لیے برا نہ کہیں کہ اس نے آپ کو مدعو نہیں کیا۔
اور ہر اس شاعر کو متشاعر نہ کہیں جو آپ کا ہم خیال نہیں۔
ادب میں اختلاف رہے، مگر احترام کے ساتھ۔
تنقید ہو، مگر دلیل کے ساتھ۔
مسابقت ہو، مگر صحت مند۔
اعزازات ہوں، مگر میرٹ کے ساتھ۔
اور سب سے بڑھ کر انسان کو انسان سمجھنے کی تہذیب باقی رہے۔
کیونکہ ادب کا بنیادی مقصد انسان کو بڑا بنانا ہے، دوسرے کو چھوٹا ثابت کرنا نہیں۔
آج ہمیں دوسروں کے عیب گننے سے پہلے اپنا آئینہ دیکھنے کی ضرورت ہے۔
کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم جس بے ادبی کے خلاف پوسٹ لکھ رہے ہیں، ہمارے اپنے الفاظ بھی اسی بے ادبی کا نمونہ بن چکے ہوں؟
کہیں ایسا تو نہیں کہ جس کردار کشی کو ہم غلط کہتے ہیں، وہی کام ہم کسی دوسرے کے خلاف کررہے ہوں؟
کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمیں دوسروں کی کامیابی سے زیادہ اپنی محرومی تکلیف دے رہی ہو؟
اور کہیں ایسا تو نہیں کہ ہماری ادبی انا نے ہمارے ادبی ظرف کو نگل لیا ہو؟
یاد رکھیے، وقت سب کا حساب رکھتا ہے۔
آج آپ کسی کی تصویر پر ایموجی لگا کر ہنس سکتے ہیں، کسی کو متشاعر کہہ سکتے ہیں، کسی ایوارڈ کو بے حیثیت قرار دے سکتے ہیں، کسی تنظیم کے منتظمین کی کردار کشی کرسکتے ہیں یا کسی تقریب کو ذاتی تعصب کی بنیاد پر برا کہہ سکتے ہیں۔
مگر وقت گزرنے کے بعد تاریخ یہ بھی دیکھے گی کہ اس سارے شور میں ادب کہاں تھا؟
شاید ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہمیں ادبی دنیا میں نام بڑا کرنا ہے یا ظرف؟
کیونکہ نام وقت کے ساتھ ماند پڑ سکتے ہیں، عہدے بدل سکتے ہیں، اعزازات کی فہرستیں پرانی ہوسکتی ہیں، مگر انسان کا کردار اور ظرف دیر تک یاد رہتا ہے۔
ادب میں اختلاف زندہ رہنا چاہیے، مگر ادب مرنا نہیں چاہیے۔
اور شاید آج کے ادبی منظرنامے کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ:
ہم شعر تو بہت کہہ رہے ہیں، مگر شعور کم دکھا رہے ہیں؛
تنقید بہت کررہے ہیں، مگر تہذیب کم؛
ادب کا نام بہت لے رہے ہیں، مگر ادب کم۔
آپ ادب کی خدمت کررہے ہیں یا بے ادبی کی تاریخ لکھ رہے ہیں؟
کیونکہ ادب کا قد کسی دوسرے کو چھوٹا کرنے سے بلند نہیں ہوتا۔
ادب کا قد تب بلند ہوتا ہے جب اختلاف کے باوجود انسان کی عزت باقی رکھی جائے۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں لفظ، واقعی ادب بن جاتا ہے۔
پاکستان کی معیشت کی تاریخ میں قرض کوئی نیا لفظ نہیں۔ یہ ہماری مالیاتی داستان کا ایسا کردار ہے جو کئی دہائیوں سے مختلف ناموں، مختلف اداروں اور مختلف شرائط کے ساتھ ہمارے ساتھ چلتا آیا ہے۔ کبھی بیرونی امداد کے نام پر، کبھی ترقیاتی قرض کے عنوان سے، کبھی بجٹ سپورٹ اور کبھی کسی...
آج کے دور میں خبر تک پہنچنے کے لیے اخبار کے اگلے دن کا انتظار نہیں کرنا پڑتا۔ موبائل فون کھولیں اور دنیا بھر کی خبریں چند سیکنڈ میں سامنے آجاتی ہیں۔ یہ سہولت بلاشبہ ایک انقلاب ہے، لیکن اس انقلاب کا ایک خطرناک پہلو بھی ہے۔ اب جھوٹی خبر بھی سچ کی رفتار سے...
یہ اہم سوال ہے ؟نئے صوبے بنانا اور ملک کے معاشی مسائل حل ہونا دو الگ چیزیں ہیں نئے صوبے بعض انتظامی مسائل کم کر سکتے ہیں، مگر صرف نقشے پر نئی حد بندی کر دینے سے مہنگائی، قرض، کمزور برآمدات، بے روزگاری یا کم ٹیکس وصولی ختم نہیں ہوگی۔حالیہ بحث میں بھی یہی بنیادی...
نیپال میں نصف کلومیٹر سے بڑا برفانی تودہ ہزاروں فٹ نیچے گرا، برف، چٹان، مٹی اور پانی کے ریلے نے بستیاں، سڑکیں اور پل بہا دیے؛ ماہرین نے گلیشیائی جھیل کے اچانک پھٹنے کو خطرے کی بڑی وجہ قرار دے دیا ہے۔ ہمالیہ کی بلند و بالا چوٹیوں کو دیکھ کر شاید ہی کوئی تصور...